20 ستمبر، 2026، 8:38 AM

شام، دیر الزور میں فوجی مرکز میں دھماکا، 11 افراد ہلاک

شام، دیر الزور میں فوجی مرکز میں دھماکا، 11 افراد ہلاک

شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں فوجی مرکز میں شدید دھماکے کے نتیجے میں ہیئت تحریر الشام سے وابستہ کم از کم 11 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام کے مشرقی علاقے دیر الزور میں ایک فوجی مرکز میں نامعلوم نوعیت کے شدید دھماکے کے نتیجے میں شام کی حکمران ہیئت تحریر الشام سے وابستہ کم از کم 11 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق دیر الزور کے نیشنل اسپتال میں ان اہلکاروں کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریب منعقد ہوئی، جو ایک روز قبل عیّاش کے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق دھماکے کے وقت فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں، تاہم اس وقت فوری طور پر جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔

شام میں اس سے قبل بھی اسلحہ کے گوداموں اور ذخیرہ گاہوں میں اس نوعیت کے متعدد دھماکے ہوچکے ہیں۔

9 ستمبر کو شمال مغربی صوبہ ادلب کے شہر سرمدا کے قریب اسلحہ اور مسلح کارروائیوں سے بچ جانے والے جنگی سامان کو عارضی طور پر ذخیرہ کرنے والی ایک جگہ پر دھماکے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے تھے۔ آتش گیر مواد سے بھرے علاقے میں دھماکے کے بعد مزید دھماکے اور آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔

دسمبر 2024 کے اوائل میں سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوج شام میں سابق شامی فوج کے زیر انتظام رہنے والے فوجی مراکز، تنصیبات اور اسلحہ کے ذخائر کو مسلسل فضائی حملوں کا نشانہ بناتی رہی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے شام کے ساتھ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کے خاتمے اور شام میں جاری بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے پر قبضہ کرنے کے اقدامات کو شدید ردعمل کا سامنا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں کا بڑا حصہ شام کے جنوبی صوبوں قنیطرہ، درعا اور دمشق میں مرکوز رہا ہے، جہاں مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں کا تقریباً 80 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

News ID 1941507

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha